ہندوستانی مکہ باز نکہت زرین اولمپک میڈلسٹ کو شکست دے کر فائنل میں داخل

اسٹرینڈجا میموریل باکسنگ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے کے بعد نکہت زرین نے کہا کہ ’’یہ میرے کیریر کا بڑا لمحہ ہے کیونکہ ٹوکیو اولمپک اور عالمی چمپئن شپ میں نقرئی تمغہ جیتنے والی پر فتح حاصل کی ہے۔‘‘

ہندوستانی مکہ باز نکہت زرین اولمپک میڈلسٹ کو شکست دے کر فائنل میں داخل

سابق جونیئر عالمی مکہ بازی چمپئن نکہت زریں 73ویں اسٹرینڈجا میموریل باکسنگ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ جمعہ کو 51 کلو وزن کے سیمی فائنل مقابلے میں نکہت نے ٹوکیو اولمپک کی نقرئی تمغہ جیتنے والی مکہ باز بوسیناز کاکیروگلو کو ہرایا۔ ہندوستانی مکے باز نے ترکی کے مکے باز پر 1-4 سے یہ جیت درج کی۔ نکہت کی بوسیناز کے خلاف یہ پہلی جیت ہے جنھوں نے 2019 عالمی خاتون مکہ بازی چمپئن شپ کے 51 کلو وزن کیٹگری کے سیمی فائنل مقابلے میں میریکوم کو ہرایا تھا۔

دونوں خاتون مکہ بازوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ شروع میں ترکی کی مکہ باز نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ نکہت نے اپنے صبر کو برقرار رکھا اور حریف کھلاڑی پر دور سے ہی وزن دار حملے کیے۔ اس سخت مقابلے میں تلنگانہ کی اتھلیٹ نے کئی منظم حملے کے ساتھ واپسی کی، کیونکہ انھوں نے اپنے حریف کھلاڑی کے حملے کو بہترین ڈیفنس کے ساتھ ناکام کر دیا۔

نکہت زرین نے اس فتح کے بعد کہا کہ ’’یہ میرے کیریر کا ایک بڑا لمحہ ہے کیونکہ ٹوکیو اولمپک اور عالمی چمپئن شپ میں نقرئی تمغہ جیتنے والی پر فتح حاصل کی ہے۔ میں نے ان کے خلاف اپنے گزشتہ میچ کا جائزہ لیا تھا اور میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔ میں نے آج ان پر قابو پایا اور جیت حاصل کی۔‘‘

سابق جونیئر عالمی مکہ بازی چمپئن نکہت زریں 73ویں اسٹرینڈجا میموریل باکسنگ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ جمعہ کو 51 کلو وزن کے سیمی فائنل مقابلے میں نکہت نے ٹوکیو اولمپک کی نقرئی تمغہ جیتنے والی مکہ باز بوسیناز کاکیروگلو کو ہرایا۔ ہندوستانی مکے باز نے ترکی کے مکے باز پر 1-4 سے یہ جیت درج کی۔ نکہت کی بوسیناز کے خلاف یہ پہلی جیت ہے جنھوں نے 2019 عالمی خاتون مکہ بازی چمپئن شپ کے 51 کلو وزن کیٹگری کے سیمی فائنل مقابلے میں میریکوم کو ہرایا تھا۔

دونوں خاتون مکہ بازوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ شروع میں ترکی کی مکہ باز نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ نکہت نے اپنے صبر کو برقرار رکھا اور حریف کھلاڑی پر دور سے ہی وزن دار حملے کیے۔ اس سخت مقابلے میں تلنگانہ کی اتھلیٹ نے کئی منظم حملے کے ساتھ واپسی کی، کیونکہ انھوں نے اپنے حریف کھلاڑی کے حملے کو بہترین ڈیفنس کے ساتھ ناکام کر دیا۔

نکہت زرین نے اس فتح کے بعد کہا کہ ’’یہ میرے کیریر کا ایک بڑا لمحہ ہے کیونکہ ٹوکیو اولمپک اور عالمی چمپئن شپ میں نقرئی تمغہ جیتنے والی پر فتح حاصل کی ہے۔ میں نے ان کے خلاف اپنے گزشتہ میچ کا جائزہ لیا تھا اور میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔ میں نے آج ان پر قابو پایا اور جیت حاصل کی۔‘‘