جائےدادوں کو” بی کھاتہ“ جاری کرنے مےں کافی دشوارےاں ہےں

تمام ”بی “کھاتے کی جائےدادوں کو باقاعدہ ”اے “ کھاتہ جاری کرنے کےلئے جو بھی ضروری اقدامات کرنا ہے جلداز جلد مکمل کرکے کاروائی کرے

جائےدادوں کو” بی کھاتہ“ جاری کرنے مےں کافی دشوارےاں ہےں

بنگلور( پی اےن اےن ) حکومت کی جانب سے ہداےت دی گئی ہے کہ تمام ”بی “کھاتے کی جائےدادوں کو باقاعدہ ”اے “ کھاتہ جاری کرنے کےلئے جو بھی ضروری اقدامات کرنا ہے جلداز جلد مکمل کرکے کاروائی کرے ۔ اس کا مطلب ےہ ہوا کہ جس جائےداد کو بھی باقاعدہ منظوری دےنے کےلئے جو بھی رکاوٹےں ہےں اسے دور کرکے افزود ٹےکس وصول کرے جو بھی کوتاہےاں ان جائےدادوں کے سلسلے مےں ہوئی ہےں اس پر جرمانہ وصول کرکے اسے اے کھاتے کے دائرے مےں لاےا جائے تاکہ بی بی اےم پی کو زےادہ آمدنی ہوسکے ۔ اے کھاتہ کے دائرے مےں آنے والی وہ جائےدادےں ہےں جس کے دستاوےزات صحےح ہےں۔۔ جبکہ بی کھاتے کی جائےداد ےں وہ ہےں چاہے وہ تعمےر ہی کےوں نہ کرادےئے ہوں اس مےں کسی قسم کی کوتاہی ہوتی ہے۔ جسے باقاعدہ منظوری لئے بغےر تعمےر ہوگئے ہوں ۔ اسے باقاعدہ منظوری لےکر اے کھاتے کے حدود مےں شامل کرنا ہوگا۔ اس کےلئے بی بی اےم پی افسران کو اختےار دےا گےا ہے کہ وہ دستاوےزات کی جانچ کرکے ضرورت پڑنے پر جرمانے عائد کرکے دستاوےزات کو صحےح کرےں ۔بی بی اےم پی افسران کے مطابق بنگلور ’بی ‘ کھاتے کے کم از کم 6.6لاکھ جائےدادےں ہےں کرناٹکا اڈمنسٹر ےٹےو رےفارمس نے سفارش کی ہے کہ اےسی جائےدادوںکو باقاعدہ منظوری دےنے کےلئے جرمانہ وصول کرکے ان جائےدادوں کو منظوری دے جائےں اور ٹےکس اے کھاتے کی جائےدادوں کے ٹےکس اے کھاتے کی جائےدادوں کے ٹےکس کے مطابق وصول کرے ۔ اس سلسلے مےں بلدی اداروں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے صرف عمومی احکامات جاری کئے گئے ہےں باقاعدہ حکومت کی جانب سے احکامات جاری کرنا ہوگا۔ پھر اس کے بعد تمام دستاوےزات کی باقاعدہ جانچ کرکے اگلی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ اتنی آسانی کے ساتھ ےہ کام جلد مکمل نہےں ہوپائے گا ۔ کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس مےں قانونی اور مالی دشوارےاں بھی آئےں گی ۔ ان سب چےزوں کا تفصےلی جائزہ لےنے کے بعد ہی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ انتخابات عنقرےب ہونے والے ہےں۔6.6لاکھ جائےدادوں مےں ہزاروں افراد بستے ہےں ۔سےاسی اثرورسوخ بھی درمےان مےں حائل ہوسکتا ہے ان سب باتوں کا تفصےلی جائزہ لےنے کےلئے کافی وقت درکارہے۔بی بی اےم پی کے چےف کمشنر گاوراﺅ گپتا نے بتاےا کہ انہوں نے اس سلسلے مےں 27رےونےوافسران اور63پلس اسسٹنٹ رےونےوافسران سے تبادلہ خےال کےا ۔ کس بھی گائےڈ لائن کو تےار کرنے سے پہلے تفصےلی خاکہ بنا کر کام کو آگے بڑھا نا ہے اتنی آسانی سے ےہ کام جلد مکمل ہونے کا امکان نہےں ہے۔ ہم ےہ باتےں اعلیٰ حکام کے روبرو رکھےں گے ۔ ا سکے بعد ہی کسی نتےجے پر پہنچاجاسکتا ہے۔