کامن سول کوڈ دستور مخالف اور اقلیت مخالف قدم ،مسلمانوں کےلئے ناقابل قبول

جب یونیفارم سول کوڈنافذہوگا،تومسلم پرسنل لاءیاکسی پرسنل لاءکی حیثیت نہیں رہے گی تب مسلم پرسنل لاءبورڈکی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی

کامن سول کوڈ دستور مخالف اور اقلیت مخالف قدم ،مسلمانوں کےلئے ناقابل قبول

نئی دہلی26اپریل(آئی این ایس انڈیا)یونیفارم سول کوڈکی کو ششوں کے درمیان آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈنے وہی روایتی اوررٹارٹایابیان جاری کیاہے۔ایک طرف یوپی،اتراکھنڈاورہماچل پردیش یونیفارم سول کوڈکونافذکرنے کی کوششیں کررہے ہیں،وزیرداخلہ نے بھی حکومت کے اگلے قدم کااشارہ کردیاہے،دوسری طرف مسلم پرسنل لاءبورڈجس کابنیادی مقصدپرسنل لاءکی حفاظت ہے،وہی روایتی بیان جاری کررہاہے،جب کہ اتناسب کومعلوم ہے کہ ایسے بیان کاکتنااثرہوگا۔بورڈنے اپنے بیان میں یہ بھی نہیںبتایاکہ میٹنگ اورگفتن ،نشستن اوربرخاستن کے علاوہ اس کے پاس اورکوئی نتیجہ خیزاقدام کی تیاری ہے۔ بورڈنے طلاق ثلا ثہ کوبھی کورٹ میں چیلنج کیاہے،لیکن تین سال سے اس پرخاموشی ہے،اس نے جلدسماعت کی درخواست تک نہیں کی ہے۔ بورڈنے یہ بھی نہیں بتایاکہ اگر یونیفارم سول کوڈتمام اقلیتوں اورقبائلی طبقات کے خلاف ہے تواس نے ان طبقات کوساتھ لے کرجدوجہدکے لیے کیاپلان تیارکیاہے۔یادرہے کہ جب یونیفارم سول کوڈنافذہوگا،تومسلم پرسنل لاءیاکسی پرسنل لاءکی حیثیت نہیں رہے گی تب مسلم پرسنل لاءبورڈکی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی،ایسے وقت میں جب کہ خودبورڈکے وجود کا سوال ہے،بورڈکااتناخاموش رہنااورروایتی بیان بھرجاری کرنا،خاموشی سے میٹنگ کرکے اٹھ جاناسوال پیداکرتاہے کہ مسلم قیادت سے کیاامیدرکھی جاسکتی ہے۔یہی نہیں،پورے ملک میں مسلمانوں میں جوبے اطمینانی ہے،ایسے وقت میں مضبوط رہنمائی اورقیادت کی ضرورت تھی،اس وقت بھی بورڈسمیت تمام تنظیمیں اورقیادت خاموش تماشائی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے روایتی بیان میں کہا ہے کہ دستور ہند نے ملک میں بسنے والے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کی اجازت دی ہے، اور اس کو بنیادی حقوق میں شامل رکھا گیا ہے، اسی حق کے تحت اقلیتوں اور قبائلی طبقات کے لئے اُن کی مرضی اور روایات کے مطابق الگ الگ پرسنل لا رکھے گئے ہیں، جس سے ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ آپستی اتحاد اور اکثریت و اقلیت کے درمیان باہمی اعتماد کو قائم رکھنے میں اس سے مدد ملتی ہے، ماضی میں کئی قبائلی بغاوتوں کو ختم کرنے کے لئے ان کے اس مطالبہ کو قبول کیا گیا ہے کہ وہ سماجی زندگی میں اپنے یقین اور اپنی روایات پر عمل کرسکیںگے، اب اتراکھنڈ یا اترپردیش حکومت یا مرکزی حکومت کی طرف سے کامن سول کوڈ کا راگ الاپنا صرف بے وقت کی راگنی ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ اس کا مقصد بڑھتی ہوئی گرانی، گرتی ہوئی معیشت اور روز افزوں بے روزگاری جیسے مسائل سے توجہ ہٹانا اور نفرت کے ایجنڈے کو فروغ دینا ہے، یہ اقلیت مخالف اور دستور مخالف قدم ہے، مسلمانوں کے لئے یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کی سخت مذمت کرتا ہے اور حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے۔