کانگریس لیڈران کو سونیا گاندھی نے دیا پارٹی کو مضبوط بنانے کا منتر

یہ ملک کے ایشوز پر غور و فکر اور پارٹی کے سامنے مسائل پر خود احتسابی دونوں کے لیے ہی ایک بہترین اسٹیج ہے

کانگریس لیڈران کو سونیا گاندھی نے دیا پارٹی کو مضبوط بنانے کا منتر

اُدے پور،13 مئی( پی اےن اےن )راجستھان کے ادے پور میں تقریباً 400 کانگریس لیڈران کی شرکت کے ساتھ سہ روزہ نوسنکلپ چنتن شیویر کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس چنتن شیویر کے آغاز سے قبل کانگریس صدر سونیا گاندھی نے چشم کشا خطاب کیا جس میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ اپنے خطاب میں سونیا گاندھی نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ”بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس پر غور کرنے کے لیے یہ کیمپ ایک بہت اچھا موقع ہے۔ یہ ملک کے ایشوز پر غور و فکر اور پارٹی کے سامنے مسائل پر خود احتسابی دونوں کے لیے ہی ایک بہترین اسٹیج ہے۔“ہندوستان میں اقلیتی طبقہ کے خلاف ہو رہی کارروائیوں کی طرف بھی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں اشارہ کیا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ”ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگ لگاتار خوف اور عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ کو شاطرانہ انداز میں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقلیتی طبقہ ہمارے سماج کا ضروری حصہ ہیں اور ہمارے ملک میں انھیں بھی سب کے برابر حقوق حاصل ہیں۔“ کانگریس صدر نے دلتوں اور قبائلیوں پر ہو رہے حملے ا بھی تذکرہ کیا اور ملک میں لگاتار بڑھ رہی مہنگائی کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ رسوئی گیس اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ملک کے کروڑوں کنبے بے حال ہو گئے ہیں۔ ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی طرف بھی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں توجہ دلائی۔اپنے خطاب میں سونیا گاندھی نے کمزور ہوتی کانگریس کو مضبوط بنانے کے پختہ عزائم کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”مضبوط تنظیم سے وقت وقت پر اپنے لچیلے پن کو ظاہر کرنے کی امید کی جاتی رہی ہے، اور ہر بار ہماری تنظیم نے اثردار طریقے سے اپنا کام کیا ہے اور اپنی نمائندگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ایک بار پھر ہم سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ہم اپنی بہادری، حوصلہ اور خود سپردگی کے جذبہ کا مظاہرہ کریں۔ لیکن آج ہماری تنظیم کے سامنے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ اس بات کو میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ ہم غیر معمولی طریقے سے ہی کر سکتے ہیں۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”ہر تنظیم کو نہ صرف زندہ رہنے کے لیے بلکہ آگے بڑھنے کے لیے بھی وقت وقت پر اپنے اندر تبدیلی لانی ہوتی ہے، اور ہمیں بھی تنظیم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ پالیسی میں تبدیلی، اور روزانہ کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی، یہ سب سے بنیادی ایشو ہے جس کی طرف توجہ دی جائے گی۔ لیکن میں یہ بھی زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری باز آبادکاری صرف اجتماعی کوشش سے ہی ہو پائے گی، اور وہ عظیم اجتماعی کوشش نہ ٹالے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ٹالے جائیں گے۔