کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کے بعد احتجاج

راہل بھٹ کے قتل کے بعد شروع ہوا احتجاج آج بھی جاری ہے

کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کے بعد احتجاج

سری نگر،13 مئی(پی اےن اےن)راہل بھٹ کے قتل کے بعد شروع ہوا احتجاج آج بھی جاری ہے۔ شیخ پورہ بڈگام میں مقیم کشمیری پنڈتوں نے گزشتہ روز ہی بڈگام سرینگر روڈ کو بلاک کیا تھا اور احتجاجی دھرنا دیا۔ حالانکہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر، ڈی سی بڈگام، آئی جی کشمیر اور پولیس کے دیگر اعلی عہدیداروں نے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی مگر احتجاجی کوئی بھی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ جب تک خود ایل جی منوج سنہا انکے پاس آکر بات نہیں کریں گے تب وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔راہل بھٹ کے قتل کے بعد شروع ہوا احتجاج آج بھی جاری ہے۔ شیخ پورہ بڈگام میں مقیم کشمیری پنڈتوں نے گزشتہ روز ہی بڈگام سرینگرروڈ کو بلاک کیا تھا اور احتجاجی دھرنا دیا۔ حالانکہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر، ڈی سی بڈگام، آئی جی کشمیر اور پولیس کے دیگر اعلی عہدیداروں نے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی مگر احتجاجی کوئی بھی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ جب تک خود ایل جی منوج سنہا ان کے پاس آکر بات نہیں کریں گے تب تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ احتجاجیوں نے سخت غم و غصے کا اظہا کیا انکا کہنا تھا مرکزی سرکار نے انکے ساتھ جو بھی وعدے کئے تھے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے۔ انکا مزید کہنا ہے کہ ایک طرف انتظامیہ یہ دعوی کر رہی ہے کہ پی ایم پیکیج کے ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا لیکن جس طرح سے ٹارگیٹ کلنگس ہورہی ہے اس سے یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔احتجاجیوں میں سخت غصہ ہے انہوں نے ضلع انتظامیہ بڈگام کے خلاف اس قدر ناراضگی کا اس طرح اظہار کیا کہ وہ سب سے پہلے ڈی سی بڈگام کا سسپنشن چاہتے ہیں۔ آپک و بتادیں گزشتہ روز بڈگام کے چاڈورہ تحصیل میں راہل بٹ نامی کشمیری پنڈت کو ہلاک کیا گیا۔ انکے دفتر میں دو ملیٹنٹ اندر داخل ہوئے اور راہل بھٹ کو نشانہ بناکر اسے گولیاں چلائی۔ راہل نے اسپتال میں دم توڑا۔ راہل تحصیل دفتر چاڈورہ میں کام کر رہے تھے اور حال ہی میں بڈگام سے انکا ٹرانسفر چاڈورہ کیا گیا تھا جہاں پر ملیٹنٹوں نے راہل پر حملہ کیا۔