افغانستان میں سرکاری خواتین ملازمین نے کام کرنے کی آزادی کا مطالبہ کیا

خواتین ملازمین نے امارت اسلامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں سرکاری محکموں میں اپنی ملازمتوں پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے

افغانستان میں سرکاری خواتین ملازمین نے کام کرنے کی آزادی کا مطالبہ کیا

 کابل، 17 مئی(پی این این)حکومت کی خواتین ملازمین نے امارت اسلامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں سرکاری محکموں میں اپنی ملازمتوں پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ملازمین نے کہا کہ انہیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ رخسار نظری نے قانون اور سیاست کی فیکلٹی سے گریجویشن کیا اور 10 سال سے زائد عرصے تک سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کیا۔ رخسار نے کہا کہ حکومت کے خاتمے کے بعد وہ بہت سی دوسری خواتین سرکاری ملازمین کی طرح بے روزگار ہو گئی ہیں۔ہمیں ایک پیچیدہ اور نامعلوم مستقبل کا سامنا ہے۔ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ایک سرکاری ملازم رخسار نے کہا کہ جن ساتھیوں سے میں رابطے میں ہوں وہ بھی میری طرح غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن امارت اسلامیہ نے کہا کہ خواتین ملازمین کو برطرف نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر پر رہیں اور ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔خواتین کچھ سرکاری محکموں میں کام کر رہی ہیں جیسے وزارت صحت عامہ، کابل ہوائی اڈے پر اور دیگر محکموں میں۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا تمام تر پیش رفت ضروریات اور تقاضوں پر مبنی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ خواتین کی کام تک رسائی کی کمی خاندانی تشدد اور خواتین میں ذہنی دباو¿ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ خواتین کے حقوق کی کارکن سائرہ صبا علی یار نے کہا کہ خواتین نے زندگی میں اچھے مقام تک پہنچنے کے لیے تعلیم حاصل کی، ان کے پاس تجربہ ہے، لیکن بدقسمتی سے اب وہ اپنے گھروں پر ہیں۔ مریم معروف نامی خواتین کے حقوق کی کارکن نے کہا کہ طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ نصف ا?بادی کو چھوڑ کر ترقی یافتہ افغانستان نہیں بنا سکتے۔ انہیں افغان معاشرے کے ساتھ مشغولیت اور قبولیت اور تعامل کی پالیسی ہونی چاہیے۔