مالی بدحالی کے درمیان پاکستان ایک بار پھر مدد کیلئے چین کو قائل کرنے میں کامیاب رہا

، بیجنگ کو 4.2 بلین امریکی ڈالر کے قرض کو رول اوور کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جو کہ گزشتہ ہفتے پختہ ہو رہا تھا

مالی بدحالی کے درمیان پاکستان ایک بار پھر مدد کیلئے چین کو قائل کرنے میں کامیاب رہا

 اسلام آباد۔ 29مارچ۔(پی اےن اےن)۔ نقدی کے بحران سے دوچار ملک کے لیے ایک بڑی ریلیف میں، پاکستان، جو پہلے ہی شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، بیجنگ کو 4.2 بلین امریکی ڈالر کے قرض کو رول اوور کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جو کہ گزشتہ ہفتے پختہ ہو رہا تھا۔ پاکستان اس وقت بلند مہنگائی اور بڑے قرضوں سے دوچار ہے، اسلام آباد کی درخواستیں چین کی طرف سے سنی گئی ہیں کیونکہ بیجنگ نے قرض کو رول اوور کر دیا ہے۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان نے پہلے ہی بیجنگ سے رول اوور کے لیے متعدد درخواستیں کی تھیں۔ یہ رول اوور چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج کے ذخائر کے 2 بلین امریکی ڈالر کے قرضے اور 2.2 بلین امریکی ڈالر کے چینی تجارتی قرضوں پر مشتمل ہے، ہانگ کانگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مطابق، اسلام آباد نے کل 21 بلین امریکی ڈالر کی لائف لائن کی درخواست کی تھی جس میں تجارتی اور محفوظ ذخائر دونوں کا 10.7 بلین امریکی ڈالر کا رول اوور شامل تھا۔ پاکستان کا چین پر واجب الادا قرضہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ ہانگ کانگ پوسٹکی رپورٹ کے مطابق، پا کستانی روپیہ 181.75 امریکی ڈالر کی اب تک کی کم ترین سطح کو چھونے کے ساتھ، اسلام آباد نے چین کے ساتھ کرنسی سویپ کی سہولت کا حجم موجودہ 4.5 بلین امریکی ڈالر سے بڑھا کر 10 بلین امریکی ڈالر کرنے کو بھی کہا تھا۔ آئی ایم ایف نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان 18.4 بلین امریکی ڈالر یا اس کے بیرونی عوامی قرضوں کا پانچواں حصہ چین کا مقروض ہے، جو کسی ایک ملک یا مالیاتی ادارے کی طرف سے سب سے زیادہ قرضہ ہے۔ یہ رقم اسلام آباد کے سرکاری اعداد و شمار سے بھی 4 بلین امریکی ڈالر زیادہ ہے۔