پنجشیر کی لڑائی میں 22طالبان عسکریت پسند مارے گئے تھے: اپوزیشن

افغانستان میںاین آر ایف کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے دعویٰ کیا کہ6 طالبان کو پکڑ لیا گیا اور طالبان کے سات ٹینک مکمل طور پر تباہ ہو گئے

پنجشیر کی لڑائی میں 22طالبان عسکریت پسند مارے گئے تھے: اپوزیشن

 کابل،11 مئی( ایم این این)افغانستان میں قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے دعویٰ کیا کہ محاذ کے ساتھ لڑائی میں 22 طالبان عسکریت پسند مارے گئے ہیں، تاہم پنجشیر میں طالبان کے مقامی رہنماو¿ں نے ان دعوو¿ں کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صرف تین زخمی ہوئے ہیں۔ صوبہ پنجشیر میں طالبان کے گورنر کے ترجمان ابوبکر صدیقی نے بتایا، "ضلع درہ میں دشمنی بڑھ گئی تھی، لیکن طالبان کے دستوں کو تھوڑا سا نقصان پہنچا تھا، جس میں تین گاڑیوں کی تباہی اور تین ارکان کے زخمی ہونے شامل تھے۔ این آر ایف کے ترجمان کے مطابق، چھ طالبان کو پکڑ لیا گیا اور طالبان کے سات ٹینک مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ جہاں این آر ایف کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ پنجشیر میں طالبان دباو¿ میں ہیں اور انہیں جانی نقصان پہنچا ہے، صوبے کے ایک طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ عبداللہ خیل گا¶ں میں این آر ایف کے ارکان کو صاف کرنے کے لیے ان کی "آپریشن" نے انہیں پہاڑوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تاہم، صوبہ پنجشیر میں عوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کل دو فوجی ہیلی کاپٹروں نے تمام طالبان کی لاشوں اور زخمیوں کو کابل منتقل کیا۔ میڈیا کے مطابق، کابل لے جانے والی لاشوں کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ انہیں صوبوں کو واپس کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے قومی مزاحمتی محاذ کو شکست دینے کے بعد رہائشیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور بہت زیادہ ہلاکتیں کیں۔ طالبان نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے اور پنجشیر میں کشیدگی بڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔